اور دل میں ہمارے تو تمنا نہیں کوئی

Lyrics to ‘اور دل میں ہمارے تو تمنا نہیں کوئی’:

نعت
اور دل میں ہمارے تو تمنا نہیں کوئی
بس جلوۂِ سرکار ہو دُوجا نہیں کوئی

افلاک و زمیں پر ہیں بہت عالی مقامات
ہیں لاکھ شرف والے پہ طیبہ نہیں کوئی

وہ خاکی بدن لے کے گئے سدرہ سے آگے
اس جگہ پہ پہنچے جہاں پہنچا نہیں کوئی

اللہ کے بعد ذاتِ محؐمد عظیم ہے
دونوں کے بیچوں بیچ تو رتبہ نہیں کوئی

یکتا ہے کائنات میں میرے نبی کی ذات
ان جیسے خدوخال کا مکھڑا نہیں کوئی

یوں تو ہوئے جہان میں لاکھوں ہی نامور
میرے حضور جیسا تو دکھتا نہیں کوئی

اس طرح سے کچلا ہے غلامی کی روش کو
اب طوقِ غلامی میں تو بِکتا نہیں کوئی

اے آقا کرم کیجو رحم کیجو بھرم رکھیو
محبؔوب کا بن تیرے شناسا نہیں کوئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!