اے کاش مقدر میں وہ دن بھی ہوا کرتے

Lyrics to ‘اے کاش مقدر میں وہ دن بھی ہوا کرتے’:

نعت
اے کاش مقدر میں وہ دن بھی ہوا کرتے
ہم طیبہ کی گلیوں میں جی بھر کے پھرا کرتے

پھر دھوپ گناہوں کی ہم تک نہ پہنچ پاتی
ہم رحمتِ عالم کے سائے میں رہا کرتے

اور گنبدِ خضریٰ کے دامن میں کھڑے ہو کر
ہم نعت پڑھا کرتے اور آقا سنا کرتے

طیبہ کا ہر اک ذرہ آنکھوں پہ سجا لیتے
ہم شکر کے سجدوں کو اس طرح ادا کرتے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!