خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے

Lyrics to ‘خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے’:

خزاں سے کوئی طلب نہیں ھے ، بہار لےکر میں کیا کروں گا ؟
نگاہ_ ساقی رھے سلامت ، خمار لے کر میں کیا کروں گا ؟؟

کہاں وہ حال_ بلال حبشی کہاں وہ عشق_ اویس قرنی
نبی کی فرقت میں جی رہا ہوں قرار لے کر میں کیا کروں گا ؟؟

کوئی ھے شام_ وطن پہ رقصاں کوئی ھے صبح_ چمن پہ نازاں
بساط میری ھے خاک_ طیبہ نکھار لے کر میں کیا کروں گا ؟؟

ائے مخلصو تم مجھے نہ چھیڑو یہ رسم_ الفت تمہیں مبارک
شہہ_ مدینہ کا عشق لاؤ یہ پیار لے کر میں کیا کروں گا ؟؟

کتاب_ اول پہ نقش قرآں وہ روئے_ انور پہ زلف پیچاں
قسم ھے شمس و قمر کی لیل و نہار لے کر میں کیا کروں گا ؟؟

،،، نگاہ منکر نکیر چمکی تو ان کا بیکل مچل کے بولا
نبی کے جلوؤں میں گم ھوں شمعء مزار لےکر میں کیا کروں گا؟؟

حضرت بیکل اتساہی الہند​

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!