سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا

Lyrics to ‘سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا’:

Sama Sakta Nahin Pehna’ay Fitrat Mein Mera Soda

ما از پے سنائی و عطار آمدیم

علاّمہ اقبال

با ل جبر یل – حصہ دوم

سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا
غلط تھا اے جنوں شاید ترا اندازہ صحرا

خودی سے اس طلسم رنگ و بو کو توڑ سکتے ہیں
یہی توحید تھی جس کو نہ تو سمجھا نہ میں سمجھا

نگہ پیدا کر اے غافل تجلی عین فطرت ہے
کہ اپنی موج سے بیگانہ رہ سکتا نہیں دریا

رقابت علم و عرفاں میں غلط بینی ہے منبر کی
کہ وہ حلاج کی سولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا

خدا کے پاک بندوں کو حکومت میں ، غلامی میں
زرہ کوئی اگر محفوظ رکھتی ہے تو استغنا

نہ کر تقلید اے جبریل میرے جذب و مستی کی
تن آساں عرشیوں کو ذکر و تسبیح و طواف اولی!

بہت دیکھے ہیں میں نے مشرق و مغرب کے میخانے
یہاں ساقی نہیں پیدا ، وہاں بے ذوق ہے صہبا

نہ ایراں میں رہے باقی ، نہ توراں میں رہے باقی
وہ بندے فقر تھا جن کا ہلاک قیصر و کسری

یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بیچ کھاتا ہے
گلیم بوذر و دلق اویس و چادر زہرا!

حضور حق میں اسرافیل نے میری شکایت کی
یہ بندہ وقت سے پہلے قیامت کر نہ دے برپا

ندا آئی کہ آشوب قیامت سے یہ کیا کم ہے
“گرفتہ چینیاں احرام و مکی خفتہ در بطحا1 “!

لبالب شیشہ تہذیب حاضر ہے مے “ل” سے
مگر ساقی کے ہاتھوں میں نہیں پیمانہ “ال”

دبا رکھا ہے اس کو زخمہ ور کی تیز دستی نے
بہت نیچے سروں میں ہے ابھی یورپ کا واویلا

اسی دریا سے اٹھتی ہے وہ موج تند جولاں بھی
نہنگوں کے نشیمن جس سے ہوتے ہیں تہ و بالا

غلامی کیا ہے ؟ ذوق حسن و زیبائی سے محرومی
جسے زیبا کہیں آزاد بندے ، ہے وہی زیبا

بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردان حر کی آنکھ ہے بینا

وہی ہے صاحب امروز جس نے اپنی ہمت سے
زمانے کے سمندر سے نکالا گوہر فردا

فرنگی شیشہ گر کے فن سے پتھر ہو گئے پانی
مری اکسیر نے شیشے کو بخشی سختی خارا

رہے ہیں ، اور ہیں فرعون میری گھات میں اب تک
مگر کیا غم کہ میری آستیں میں ہے ید بیضا

وہ چنگاری خس و خاشاک سے کس طرح دب جائے
جسے حق نے کیا ہو نیستاں کے واسطے پیدا

محبت خویشتن بینی ، محبت خویشتن داری
محبت آستان قیصر و کسری سے بے پروا

عجب کیا رمہ و پرویں مرے نخچیر ہو جائیں
“کہ برفتراک صاحب دولتے بستم سر خود ر”2

وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادی سینا

نگاہ عشق و مستی میں وہی اول ، وہی آخر
وہی قرآں ، وہی فرقاں ، وہی یسیں ، وہی طہ

سنائی کے ادب سے میں نے غواصی نہ کی ورنہ
ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لولوئے لالا

ا علیٰ حضرت شہید امیرالمومنین نادر شاہ غازی رحمۃ اللہ علیہ کے لطف و کرم سے نومبر1933ء میں مصنف کو حکیم سنائی غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار مقدس کی زیارت نصیب ہوئی

– یہ چند افکار پریشاں جن میں حکیم ہی کے ایک مشہور قصیدے کی پیروی کی گئی ہے ، اس روز سعید کی یادگار میں سپرد قلم کیے گئے-:

1. یہ مصرع حکیم سنائی کا ہے
2. یہ مصرع مرزا صائب کا ہے جس میں ایک لفظی تغیر کیا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!