میں اپنے نبی کے کُوچے میں چلتا ہی گیا

Lyrics to ‘میں اپنے نبی کے کُوچے میں چلتا ہی گیا’:

Main Apnay Nabi Ke Kuchay Mein
میں اپنے نبی ﷺ کے کُوچے میں چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
میں اپنے نبی ﷺ کے کُوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا

اِك خواب سے گويا اٹھا تھا
كچھ ايسى سكينت طارى تھی
حيرت سے ان آنكھوں كو اپنی
ملتا ہی گیا ملتا ہی گیا
میں اپنے نبی ﷺ کے کُوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
میں اپنے نبی ﷺ کے کُوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا

جب مسجد نبوى كو ديكھا
ميں روضہ جنت ميں پہنچا
جِس جا وہ ﷺ مبارك چہرے كو
اشكوں سے اپنے دھوتا تھا
جب دنيا والے سوتے تھے
وہ ﷺ ان کے ليے پھر روتا تھا
اك ميں تھا كہ سب كچھ بھول رہا ،
اك وہ ﷺ تھا كہ امت كى خاطر
كتنے صدمے اور كتنے الم،
جھلتا ہی گیا جھلتا ہی گيا

میں اپنے نبی ﷺ کے کُوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
میں اپنے نبی ﷺ کے کُوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا

طائف كى وادى ميں اترا،
طالب كى گھاٹی سے گزرا
اك شام نكل پھر طیبہ سے
ميدان احد ميں جا بيٹھا
واں پیارے حمزہ كا لاشہ
جب چشمِ تصور سے ديكھا
عبداللہ کے شہ زادے ﷺ كو
اس دشت ميں پھر بِسمل ديكھا
يہ سارے منظر ديكھ کے پھر
ميں رہ نہ سکا كچھ کہہ نہ سكا
بس دکھ اور درد كے قالب ميں
ڈھلتا ہی گیا ڈھلتا ہی گیا

میں اپنے نبی ﷺ کے کُوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
میں اپنے نبی ﷺ کے کُوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا

ميں كيا منہ لے كر جاؤں گا؟
كوثر كى طرف جب آؤں گا
تلوار ميں ميرى دھار نہیں،
تعلیمِ دین سے پیار نہیں
باتوں ميں ميرى سوز كہاں؟
آہیں ميرى دل دوز كہاں؟
كتنے ہی پیماں توڑ چکا،
میں رب كى ياديں چھوڑ چکا!
اِك ايك مرا پھر جرم مجھے
کَھلتا ہی گیا کَھلتا ہی گیا

میں اپنے نبی ﷺ کے کُوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
میں اپنے نبی ﷺ کے کُوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا

پھر لوٹ کے جب میں گھر آیا،
اك شمع ساتھ ہی لے آیا
يہ حب سنت كى شمع
جس دن سے فروزاں كى ميں نے
اس دن سے ميں پروانہ بن كر
جلتا ہی گیا جلتا ہی گيا
میں اپنے نبی ﷺ کے کُوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا

میں اپنے نبی ﷺ کے کُوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا
میں اپنے نبی ﷺ کے کُوچے میں
چلتا ہی گیا چلتا ہی گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!