کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں

Lyrics to ‘کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں’:

نعت
کیا جھومتے پھرتے ہیں مے خوار مدینے میں
جی بھر کے پلاتے ہیں سرکار مدینے میں

یہ ارض و سماء یارو اور عرشِ الہٰ یارو
کرتے ہیں غلامی کا اقرار مدینے میں

اے طیبہ تیری عظمت واللہ تیری شوکت
اللہ مدینے میں سرکار مدینے میں

جنت کے طلبگار و چشمِ دل گروا ہو
دکھتے ہیں بہشتوں کے انبار مدینے میں

طیبہ میں بدل جائیں فطرت کے اصول اکثر
کھلتے ہیں جہانوں کے اسرار مدینے میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!