یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے

Lyrics to ‘یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے’:

نعت
یہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
کہ مجھ جیسا عاصی مدینے چلا ہے

کہاں میں کہاں سبز گنبد کی چھاؤں
جو سوچوں تو یہ بھی بڑا معجزہ ہے

مدینے کی گلیوں کا پر نور منظر
بڑا ہی انوکھا بڑا دلربا ہے

ہے طیبہ کی بستی بہشتوں سے اعلیٰ
کہ یہ حرمِ پاکِ حبیبِ خدا ہے

سبھی عالموں میں چنیدہ یہ ٹکڑا
خدا کی نگاہوں کا مرکز بنا ہے

مدینے کی دھرتی یہ گنبدِ خضریٰ
یہ رتبے میں عرشِ الہٰ سے بڑا ہے

میری جان نکلے تو طیبہ میں نکلے
خداوند تجھ سے یہی التجا ہے

میری خوش نصیبی کا عالم تو دیکھو
مجھے آستانِ محؐمد ملا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!