ارمان نکلتے ہیں دل کے آقا کی زیارت ہوتی ہے


Armaan Nikalte Hain Dil Ke

ایسی بھی قیامت ہوتی ہے

ارمان نکلتے ہیں دل کے آقاﷺ کی زیارت ہوتی ہے
کون اس کو قیامت کہتا ہے ایسی بھی قیامت ہوتی ہے

طیبہ کا تصور کیا کہیے اک کیف کی حالت ہوتی ہے
جس سمت نگاہیں اٹھتی ہیں بس سامنے جنّت ہوتی ہے

احساس فزوں جب ہوتاہے اُس بابِ کرم سے دوری کا
وہ قلب ہی جانے بے چارہ جو قلب کی حالت ہوتی ہے

ہے ان کی رضا پر حق کی رضا اور ان کا کیا ہے حق کا کیا
جو اُن کا ارادہ ہوتاہے وہ حق کی مشیّت ہوتی ہے

اُس باعثِ خلقِ عالم کا جب نام لبوں پر آتا ہے
راحت سے بدل کر رہتی ہے جو کوئی مصیبت ہوتی ہے

طیبہ کی بہارِ دل کش کا جب تذکرہ کوئی کرتا ہے
اُس وقت مریضِ الفت کی کچھ اور ہی حالت ہوتی ہے

مختارِ جہاں ہیں وہﷺ، تحسیؔں! جو مانگو وہ اُن سے ملتاہے
تقسیم اُنھیں کے درسے تو کونین کی دولت ہوتی ہے


صدر العلماء حضرت علامہ محمد تحسین رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ تعا لٰی علیہ

image_pdf ⇒ ⇒ Download PDF Format ⇐ ⇐image_print ⇒ ⇒ Print Naat Lyrics ⇐ ⇐

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ارمان نکلتے ہیں دل کے آقا کی زیارت ہوتی ہے

error: Content is protected !!