عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد

نعت
عرش پر بھی ہے ذکرِ شانِ محؐمد
خدا بھی ہے خود نعت خوانِ محؐمد

شرف یہ صرف انس و جاں کو نہیں
ملائک بھی ہیں خادمانِ محؐمد

کوئی اس تعلق کو کیا نام دیوے
کلامِ خدا ہے زبانِ محؐمد

سمٹ جائیگا پُل بھی حیرت کے مارے
گزر جائے گا کاروانِ محؐمد

ٹھٹھرتی ہے دوزخ بھی جنکے ذکر سے
ہیں کتنے بلند عاشقانِ محؐمد

تو محبؔوب گر رب کا دیدار چاہے
نگاہوں سے چوم آستانِ محؐمد