میرے مولا کرم کر دے

حمد
میرے مولا کرم کر دے
دل نور سے پُر کر دے

جب ذکر کروں تیرا
یہ آنکھ بھی نم کر دے

جنت کی نہیں خواہش
طیبہ میں مجھے گھر دے

ظلمت میں گھرا ہوں میں
اب میری سحر کر دے

قسمت میری جاگ اُٹھے
تُو ایک نظر کر دے

ہاں عازمِ طیبہ تُو
محبؔوب کو پھر کر دے